ترونتپ ورم18اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سبری مالا پہاڑی پر واقع اپپامندر میں تمام عمر کی خاتون کے داخلہ پر مبنی فیصلہ کیخلاف مختلف ہندو تنظیموں کی جانب سے کیرل میں بلائے گئے بند جمعرات کی صبح شروع ہوا۔ بند کی وجہ سے بسیں اورآٹورکشا سڑکوں سے ندارد رہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ پتنم تٹا ضلع میں واقع سبری مالاپہاڑی پر جانے کے تینوں اہم راستوں سمیت مختلف جگہوں پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کے کچھ حصوں سے کیرل ریاست ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں پر پتھراؤ کی اطلاع ہے ۔اگرچہ کچھ علاقوں میں نجی گاڑی چل رہی ہے ۔ پولیس نے مظاہرین اور تشدد پر لگام لگانے کے لئے پمبا سمیت چار جگہوں پر سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت حکم امتناعی نافذ کردیا ہے ۔ یاتریوں کے ایک تنظیم سبری مالا تحفظ کمیٹی نے نلکل میں مبینہ طورپر اپپاکے بھکتوں پر بدھ کو ہوئے پولیس لاٹھی چارج کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی اور این ڈی اے کے حامیوں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ ہڑتال میں شامل نہیں ہو گی لیکن جمعرات کو پوری ریاست میں مظاہروں کا انعقاد کرے گی۔ مظاہرین 28 ستمبر کو عدالت کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ فیصلہ میں تمام عمر کی خواتین بشمول نابالغ خواتین کو بھی مندر میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے کی مخالفت میں مظاہرہ کر رہے ’’شردھالوؤں‘‘ کے ساتھ بدھ کو نلکل میں تصادم کے بعد پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا تھا۔ پروین توگڑیا کی قیادت والے وشو ہندو پریشد نے عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرنے کے لئے کیرالہ کی سی پی ایم قیادت والی حکومت سے قانون بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔